یہاں اور وہاں میں اتنا فرق کیوں؟

RTاچھا تو یہ خبر ایران سے کیوں نہیں آتی کہ

تہران کی فوڈ کنٹرول اتھارٹی نے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کے دس ٹن مضرِ صحت مرغی کا گوشت پکڑ لیا؟

استنبول میں لگ بھگ ڈھائی سو ریستورانوں کو غلاظت کے سبب سر بمہر کر دیا گیا۔

سعودی عرب میں خنزیر کا گوشت ہوٹلوں کو فراہم کرنے والا ایک گروہ حکام کے ہتھے چڑھ گیا۔

ملیشیا میں دو قصاب مردہ گدھے کا ’مٹن‘ بیچتے ہوئے دھر لیے گئے۔

دوبئی میں خوراک کے زائد المعیاد ڈبوں کے لیبل بدل کر فروخت کرنے والی ایک ریٹیل چین کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا۔

جنوبی فرانس میں بھینسوں کو ہارمونل انجکشن لگا کے دودھ کی پیداوار بڑھانے کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔

کئی اسرائیلی شہروں میں دودھ کو کاسٹک سوڈے سےگاڑھا کر کے بیچنے کی وبا عام ہو رہی ہے۔

آسٹریلیا میں جعلی ادویات کا مارکیٹ میں تناسب 50 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کی اس رپورٹ پر اجلاس میں ہنگامہ ہو گیا اور حزبِ اختلاف نے وزیرِ صحت کے فوری استعفے تک کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔

جاپان میں دو نمبر کیڑے مار ادویات کے پھیلاؤ سے کاشت کار سخت پریشان۔

جنوبی افریقہ کے گوالوں نے غیر معیاری دودھ بیچنے والوں کے خلاف سرکاری محکمہ خوراک کی کاروائیوں کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے دارالحکومت پریٹوریا کی مرکزی شاہراہ پر دھرنا دے دیا۔

مرکزی انجمنِ تاجرانِ لبنان نے بلدیہ بیروت کی جانب سے چھوٹے دوکانداروں پر گاہک کو کیش میمو جاری کرنے کی لازمی پابندی کے قانون کو منسوخ کرانے کےلیے دو روزہ ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

قاہرہ میں قصائیوں نے مقرر کردہ سرکاری نرخ پر گوشت فروخت کرنے سے انکار کر دیا اور احتجاجاً نرخ نامے پھاڑ ڈالے۔

انڈونیشیا کے جزیرہ بالی میں آسٹریلیا سے ہزاروں بیمار بھیڑیں منگوانے کے سکینڈل میں سرکاری افسروں کی ملی بھگت کا انکشاف۔

برازیل کی حکومت نے جانوروں کے استعمال کے نام پر درآمد ہونے والی ناقص امریکی گندم کے انسانی استعمال کے گھپلے کی تحقیقات شروع کر دیں۔

یورپی یونین نے غیر معیاری مچھلی کی برآمد پر آٹھ لیبیائی کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں لینڈ مافیا نے گذشتہ دس برس کے دوران ہزاروں کنال سرکاری زمین پر قبضہ کر کے رہائشی کالونیاں بنا کر بیچ ڈالیں۔

کہا جاتا ہے کہ 50 سالہ شی ہوانگ ٹی 20 برس پہلے صوبہ شانسی میں ایک ادنیٰ سرکاری ملازم تھا لیکن اس وقت ملک کا سب سے بڑے کنسٹرکشن ٹائیکون ہے جسے حکمران پولٹ بیورو کے کم ازکم ایک چوتھائی ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

خبررساں ایجنسی انٹر فیکس کے مطابق روسی مسلح افواج اس وقت ملک کی دوسری بڑی لینڈ ڈویلپر ہیں اور سرکاری کنسٹرکشن کے آدھے ٹھیکے مسلح افواج کی ذیلی کمپنیوں کو دیے جا رہے ہیں۔

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بنگلور میں منگل کو ملک کی پہلی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کا سنگِ بنیاد رکھا۔

پرتگال کے آڈیٹر جنرل کی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پارلیمان کے آدھے ارکان نے اپنے اثاثے بے نام رکھے ہوئے ہیں اور انھوں نے سال 15۔2014 کے جو ٹیکس گوشوارے بھرے ہیں ان کے مطابق 30 فیصد ارکانِ پارلیمان بظاہر خطِ غربت کی سطح سے نیچے رہ رہے ہیں۔

تو کیا دیگر ممالک کے قوانین اور ان پر عمل درآمد کروانے والے قانون سے بھی زیادہ سخت ہیں یا پھر ان ممالک کے لوگ اور عہدیدار قانون توڑنے کے معاملے میں بزدل ہیں یا ان ممالک کی حکومتوں کے پاس اپنے عوام کے غذائی، طبی، رہائشی، روزگاری اور قانونی تحفظ کےلیے کوئی ایسی گیدڑ سنگھی ہے جو یہاں پر کسی نے نہیں دیکھی؟

 

سمجھ میں نہیں آتا کہ یہاں اور وہاں میں اتنا فرق کیوں؟

چلیے مسلمان اور غیر مسلمان ممالک میں تو فرق سمجھ میں آتا ہے لیکن مسلمان ممالک اور پاکستان میں قانون شکنی کے معاملے میں اتنا فرق کیوں؟

جو یہاں ہو رہا ہے وہ وہاں کیوں نہیں ہو رہا اور جو وہاں ہو رہا ہے یہاں کیوں نہیں ہو پا رہا؟

آپ کو کوئی تشفی بخش جواب مل جائے تو اس فقیر کو بھی بتائیے گا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s