چترال

CHITRAL-KALASH VALLEYS chitral

اب تووہ وادیاں اداسی کی سرمئی چادر اوڑھ کر سو چکی ہیں۔ نہ ہندوکش کی چوٹیوں پرنیلا چاند چمکتا ہے اور نہ سیاہ پرندوں کی سفید آوازیں!
اب وہاں آبشار سروں کی صورت نہیں بہتے۔اور وہ درخت آب سیلاب میں تنکوں کی طرح تیر رہے ہیں جو ہواؤں میں چترالی رقص کرتے تھے۔ساری روشنیاں گل بجھ گئی ہیں۔ اب کسی لکڑی کی کٹیا میں کوئی لالٹین نہیں جلتی۔ بچے بھوک سے لپٹ کر سوگئے ہیں۔ مائیں جاگ رہی ہیں۔ حد نظر تک پھیلا ہوا پیاسا پانی منجمد ہونے کی دعائیں مانگ رہا ہے اور اس پانی کی تھکی ہوئی لہروں پر آہستہ آہستہ تیر رہے ہیں اس بنسری کے سر جو بھیگی چادر والے کافر موسیقار کے زخمی ہونٹوں پر اس گیت کو پکار رہی ہے جو بہت قدیم ہے۔
اب اس گیت کی زباں کوئی نہیں جانتا۔ان کیلاشی لڑکیوں کو تو ویسے بھی کچھ نہیں معلوم جو سیاحوں کے کیمراؤں کے سامنے اس پراسرار وادی کی ماڈرن ماڈلز بن کر جھومتی ہیں مگر سفید بالوں اور سیاہ لباس میں لپٹی ہوئی وہ کافر بڑھیا بھی نہیں جانتی کہ آخر اس گیت کا مطلب کیا ہے؟ وہ گیت جو سکندر اعظم کی فوج کے سپاہیوں کے ان گھوڑوں کے سموں سے نکلا تھا جو پتھروں پر پاؤں پھٹکتے جا رہے تھے ان محبتوں کو چھوڑ کر جو نمناک نکھوں سے انہیں تب تک دیکھتی رہیں جب تک اس فوج آخری سپاہی نظروں سے اوجھل نہیں ہواجس کا فوج سپہ سالار فاتح کم اور سیاح زیادہ تھا۔
’’یہ ایک جدائی کا گیت ہے‘‘ اندھے مغنی نے اپنی مایوس پلکوں کو جھپکا کر کہا
’’وصال کی آغوش بننے والی یہ وادی اب اس گیت کی متلاشی ہے‘‘ وہ کہتا رہا۔
’’اب ہمارے پاس صرف اس گیت کے سر ہیں! سہمی ہوئی لڑکی پہلی محبت کی پہلی بیوفائی پر کس طرح روتی ہے؟ ‘‘ اندھا مغنی ایک پل کے خاموش ہوگیا۔ اور پھر اس نے کہا:
’’اس گیت کے سروں کو سنو!
وادیاں اس طرح روتی ہیں۔
پہاڑی ندیاں اس طرح بین کرتی ہیں۔
خزاں اس طرح آتا ہے۔
پھول اس طرح جھڑتے ہیں۔
نیند اس طرح آتی ہے۔
خواب اس طرح جلتے ہیں۔
وقت اس طرح بہتا ہے۔
گلیشےئر اس طرح پگھلتا ہے۔ ‘‘
دور بجتی ہوئی بانسری کی آواز ڈوب کر ابھری۔
اندھے مغنی نے پھر سے کہنا شروع کیا
’’وقت چلتا ہے کبھی چاند کبھی چور کی چال‘‘
’’وقت کیا ہے؟تبت کی وادیوں میں بیٹھا ہوا یک بیوقوف لاما اس سوال کو کیا سمجھے گا؟میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وقت کیا ہے؟ میں نے اس کو اپنی اندھی آنکھوں سے رامبور کی راہوں پر اکڑ فوں سے چلتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ ایک احمق سردار کی طرح ہے جو پاگل پن کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ یہ ایک بدچلن عورت ہے جو بغاوت کا برقعہ پہن کر چلتی ہے۔ یہ ایک زخمی درندہ ہے جس کاآخری ہتھیار دکھتی ہوئی داڑھ ہے!!‘‘
اندھا مغنی پھر خاموش ہوگیا ۔ مگر بنسری بجتی رہی!!
چترال کی یہ وادیاں درد میں بکھرنا چاہتی ہیں۔
مانا کہ ان کی بنیادوں میں پگھلا ہوا تانبہ ہے۔ مگر دل انسان کا درد اٹھانا ان کے بس کی بات نہیں۔ یہ برداشت نہیں کر سکتی اس غم جو جو جنازہ اٹھاتے ہوئے دل میں کروٹ لیتا ہے۔ اپنوں کے جنازے تلاش کرنے والے انسانوں کا دکھ کیسا ہوتا ہے؟
جاؤ! اور اہلیان چترال سے پوچھو جن کے مسخرے اب اسٹیج پر رونے لگے ہیں۔
جاؤ! اور اس درد کا باقی بیان اس ماں سے پوچھو جو کہتی ہے کہ ’’کہانی ابھی ادھوری ہے۔ میرا مرحوم بچہ گیلی قبر میں سکون سے نہیں سو پائے گا۔ اسے لاؤ! اور مجھے یہ کہانی مکمل کرنے دو جو ابھی تک آنسو بہا رہی ہے‘‘
وہ میدان اب زیر آب ہے جہاں پولو کے میچ ہوا کرتے تھے۔ اب سول اور عسکری قیادت وہ مقابلہ کیوں نہیں کرتے جو پانی کی لہروں سے لڑتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ مین پاور اور مایا کا یہ مقابلہ کچھ ٹھیک نہیں۔ جیالے تو جل کر بھسم بھی ہوچکے۔ اب مسلم لیگ کے مستانوں کو لاؤ۔ قوم کی خدمت لذیذپکوان کھاکر نہیں کی جاتی۔
جمہوریت کی لیلی سیلاب کی لہروں میں بہت دور تک بہتی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم تو دورہ سندھ کے دوراں میڈیا کی آنکھوں میں ایک ارب روپیوں کی امداد کی دھول جھانک کر جا رہا ہے۔ رینجرز کراچی کے ایک کلر کو گرفتار کر رہی ہے۔ مگر چترال کا وہ پل تو بہہ چکا جو صرف انسانوں کو نہیں بلکہ احساسات کو بھی ملاتا تھا۔
اب وہ پل کب بنے گا؟ جس سے فور ویل گاڑی احتیاط سے گذرتی تھی!
تم نے چترال کو چہکتے دیکھا ہے!
اب اسے سسکتے ہوئے بھی سنو!!!
پنجاب کے خادم اعلی کو خبر دو کہ پرانے پاکستانی گیتوں سے کہیں زیادہ غم ہے اب اب وادیوں میں جہاں زندگی زیر آب ہے!
اور بلوچستان میں میڈیا کے سامنے سیلاب سے لڑنے کی ادکاری کرنے والے عمران خان کو یہاں لاؤ اور اسے دکھاؤ کے کہ آنکھوں کے برفانی تودے ک طرح پگھلتے ہیں؟
اب تو وہ سابق سرکاری سرخ پوش وپروٹوکول کی پابندیوں سے آزاد ہیں۔ اب اے این پی قیادت وہاں کیوں نہیں جاتی جہاں صدیوں سے منجمد ہونے والا درداب پگھل رہا ہے۔
باچا خان تو ان راہوں کی باتیں کیا کرتا تھا جو روح سے گذرتی تھیں۔ تم ولی خان کی بات کرتے ہو؟ اب تو ان راستوں پر غنی خان کے گیت بھی سفر نہیں کرتے جہاں دن جلتے ہیں اور راتیں جم جاتی ہیں!
تم چترال کی بات کرتے ہو نا؟
آؤ !اور دیکھو بستیوں کا بہہ جانا۔
دل کے قریب سے گذرتا ہو ادرد!
اور اہلیان چترال کی بے پردہ آہیں!!
وہ آہیں جو کبھی پہاڑ کے پردے میں بین کیا کرتی تھیں
اب وہ میڈیا کی منتظر ہیں۔ اور میڈیا کہاں ہے؟
جہاں دہکتے ہوئے انگاروں پردنبے کے گوشت کی بوٹیاں روتی ہیں!
جہاں خواب خواہش کی کمر پر ہاتھ رکھ کر رقص کرتے ہیں!
جہاں جسم پہلے پگھلتا ہے اور احساس کبھی کبھار بعد میں!!!
وہ چترال جس کے بارے میں مغرب کے موالی صحافی نے لکھا تھا کہ’’ان وادیوں میں سکون سوتا ہے‘‘
اب اس کو واپس لاؤ!
اور دکھاؤ گھبرائی ہوئیں مگر بلکتی آنکھیں!!
یہ چترال ہے!
جہا ں گھوڑے رقص کرتے تھے اور سوار رومانس!
جہاں ایک آمر ’’ٹارا‘‘ کا پیگ پیتا تھا
اور ایک سپاہی سبز چائے!!
جہاں خواب جنگلی خرگوش کی طرح آتے تھے؛
انگاروں پر آخری بار رقص کرنے کے لیے!!
اگر اس وقت فیض احمد فیض یہاں آتے تووہ کچھ نہ لکھ پاتے سوائے اپنے اس پرانے شعر کے سوا:
’’ مجھ سے اس دیس کا تم نام نشاں پوچھتے ہو
جس کی تاریخ نہ جغرافیہ اب یاد آئے
اور یاد بھی آئے تو محبوب گذشتہ کی طرح
روبرو آنے سے جی گھبرائے
دل اک کیا پوچھتے ہو؟
سوچنے دو!!‘‘
اب وہ پانی میں ڈوبی ہوئی وادیاں سوچ رہی ہیں!
تاریخ کا وہ سفر جو ابھی رک گیا ہے۔ جس کی منزل باتیں کرتی آنکھوں سے ڈوب گئی ہے۔ وہ خوبصورت مناظر اب موہوم سی یادیں بن کر ابھر رہے ہیں جو اب صرف پرانی تصاویر میں دیکھے جا سکیں گے۔
ہم نے غلط سوچا تھا کہ صرف انسان مرتے ہیں۔ آؤ! اور چترال کو دیکھو جہاں مناظر مر چکے ہیں۔ جہاں انسانیت کی انا اب بکھاری کی طرح ہاتھ پھیلائے بیٹھی ہے۔اب اگر تازہ ترین خبریں پیش کرنا ممکن نہیں تو فیچر ہی سہی! ویسے بھی فیچر تو کسی بھی ٹاپک پر لکھا جا سکتا ہے! مگر میڈیا کو اس کوریج میں کوئی مفاد نظر نہیں آتا۔ اس لیے کون ان راہوں پر نکلے جہاں راستے پہلے سے زیادہ دشوار بن چکے ہیں۔ کون ان لوگوں سے بات کرے جن کے پاس سوائے سیلاب کے اور کوئی موضوع نہیں۔ محب وطن میڈیا اقتداری سیاست کے مہکتے ہوئے ماحول میں مسکرا رہی ہے۔
اور چترال ایک چیخ بن گیا ہے!!
وہ چترال جس نے ہم سے کبھی کچھ نہیں لیا۔ جس نے ہمارے فکشن پسند صحافیوں کو ریسٹ ہاؤسز کے وہ کمرے دیے جن کے نزدیک پہاڑی ندی بہتی تھی۔ جہاں بیٹھ کر انہوں نے گرم چائے سے خشک میوے کھائے اور اپنے نیم حقیقی سفرنامے تحریر کیے۔
’’سرحدی علائقوں میں سازشیں آسانی سے جڑ پکڑتی ہیں‘‘ ہر عسکری دانشور اس بات پر اصرار کرتا ہے۔ مگر اس چترال کو بھول جاتا ہے جس کی سرحدیں تین ممالک سے ملتی ہیں مگر وہاں لوگ معصومیت سے جیتے ہیں اور مال کے بجائے اپنے حال میں مست رہتے ہیں۔
وہ چترال جہاں دہشتگردی تو کیا چوری تک نہیں ہوتی۔
جہاں ہر مسافر کے ساتھ مہمانوں سا سلوک کیا جاتا ہے۔
جہاں معصومیت مسکراتی ہے اور محبت گیت گاتی ہے۔
جہاں ہر منظر آنکھوں کے فریم میں فٹ ہونے والی تصویر لگتا ہے۔
جہاں پاؤں رکھنے سے دھول کی صورت اجلی دھوپ اڑتی ہے۔
جہاں وقت آسمان نیلا اور دھرتی سبز ہے۔
مگر اب وہ وادی ایک آنسو بن گئی ہے!
ایک ایسا آنسو جوآنکھوں کو متلاشی ہے!
کیا یہ ملک ایک آنکھ بن سکتا ہے؟
جو چترال کو اپنی پلکوں میں سمائے!
صرف اس موسم تک جب پہاڑوں سے اترا ہوا پانی سوکھ جائے!
مگر اہل چترال کی آنکھوں میں بھر آیا پانی کب سوکھے گا؟
اس سوال کا جواب کوئی نہیں جانتا!!!!

بشکریہ : اعجاز منگی
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s